
اپنے محسنوں کو یاد رکھنے والی اقوام ہی سربلند ہوتی ہیں
حکیم حامد نور نظامی کی خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی
پائم کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس، جسٹس (ر) نذیر احمد غازی پائم کے صدر پروفیسرڈاکٹرحکیم عبدالحنان،پائم کے سینئرنائب صدر حکیم راحت نسیم سوہدروی اور دیگر کا خطاب
لاہور: دنیا میں وہی اقوام ترقی اور سربلندی حاصل کرتی ہیں جو اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں، ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اور ان کی زندگیوں کو اپنے لیے مشعلِ راہ بناتی ہیں۔ ایسی ہی عظیم شخصیات میں حکیم حامد نور نظامی بھی شامل تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی طب، ادب، روحانیت اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔
حکیم حامد نور نظامی ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں، ستائیسویں رمضان المبارک کی شب اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات علمی، طبی اور روحانی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وہ ایک محبت کرنے والی،مخلص، باوقار اور باکردار شخصیت کے مالک تھے، جن کی ذات میں ادب، حکمت، روحانیت اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔
ان خیالات کا اظہار جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن (پائم) کے زیر اہتمام ہمدرد مرکز لاہور میں26 اپریل 2026 کومنعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ تعزیتی ریفرنس حکیم حامد نور نظامی، صدر پائم، کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کیا گیا۔
تقریب کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان صدر پائم، نے کی جبکہ دیگر مقررین میں حکیم راحت نسیم سوہدروی، حکیم بشیر بھیروی، حکیم فضل امین، حکیم صابر شاہ، حکیم قیصر گھمن، حکیم عثمان چشتی، حکیم پروفیسر میاں سعید، حکیم صغیر خان، حکیم نوید یوسف،حکیم سیدظہورالحسن زیدی، حکیم حافظ احسان الرحمن، حکیم سلیم الحسن سلیمی، پروفیسر عمر توصیف دھول، متین کاشمیری، حکیم سجاد زخمی، حکیم اقبال بلوچ، معروف تجزیہ کار عبدالباسط خان اور حکیم جہانگیر سمیت دیگر شخصیات نے خطاب کیا، جبکہ نظامت کے فرائض حکیم حارث نسیم نے انجام دیے۔
مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ حکیم حامد نور نظامی نے شہید حکیم محمد سعید کے رفیق اور فکری ساتھی کی حیثیت سے پوری زندگی فروغِ طب کے لیے جدوجہد کی۔ وہ نہ صرف ایک ممتاز طبیب تھے بلکہ صاحبِ فکر، صاحبِ نظر دانشور اور تنظیمی صلاحیتوں کے حامل رہنما بھی تھے۔ انہوں نے طبِ مشرقی کے فروغ، حکما کے اتحاد اور پائم کی مضبوط تنظیم کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ حکیم حامد نور نظامی، شہید حکیم سعید کے فکری جانشینوں کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ ان کے انتقال سے طب کی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے، جسے پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم کو حقیقی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ طبِ مشرقی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، حکما کو متحد اور منظم کیا جائے، اور فکرِ سعید کے مطابق پائم کی جدوجہد کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جائے تاکہ طب کو نئی زندگی اور نئی سمت فراہم کی جا سکے۔ تقریب کے اختتام پر حکیم حامد نور نظامی، حکیم زبیر گیلانی اور حکیم خلیق الرحمن کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔
