Pakistan Association for Eastern Medicine

Two days Seminar about Thalassemia Awareness

Organized by Pakistan Association for Eastern Medicine (PAEM) in collaboration with Faculty of Eastern Medicine, Hamdard University & Saylani Blood Bank and Thalassemia Care Centre held on 19th and 20th May, 2026

عالمی دن برائے تھیلیسیمیا 2026 کی مناسبت سے  19اور20  مئی 2026  کوپاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن کی جانب سے ہمدرد یونیورسٹی اور سیلانی بلڈ بنک اینڈتھیلیسیمیاکیئر سینٹر کراچی کے تعاون سے دو روزہ سیمینار منعقد کیا گیا۔جس میں پائم کی سرپرست اعلی اور ہمدرد فاؤنڈیشن کی صدر محترمہ سعدیہ راشد صاحبہ) ہلال امتیاز(  نےصدارت فرمائی ،سیلانی ویلفیئر انٹر نیشنل ٹرسٹ کے تھیلیسیمیا پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام سرورصاحب،ہمدرد یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمران جاوید امین صاحب ، ڈین فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن ڈاکٹر ارشد محمودصاحب نےبھی اس سیمنار میں شرکت فرمائی۔اس پروگرام کو پائم کی جوائنٹ سیکریٹری اور فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن کی اسسٹنٹ پروفیسر  ڈاکٹر طبیبہ صائمہ غیاث صاحبہ نےآرگنائز کیا۔پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن کے جنرل سیکریٹری حکیم محمد مصطفی بیگ صاحب نے اس پروگرام میں خصوصی شرکت فرمائی۔

  آگاہی پروگرام کے پہلے روز سیلانی بلڈ بنک اینڈتھیلیسیمیاکیئر سینٹر کراچی کے تعاون سے  فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن،ہمدرد یونیورسٹی میں بلڈ اسکریننگ اور ڈونیشن کیمپ لگایا گیا۔جس میں طلبہ و طالبات، اساتذہ اور اسٹاف کی اسکریننگ کی گئی اور انہوں نے بلڈ ڈونیٹ کیا۔اس کیمپ کے ذریعے تقریبأ87 طلبہ وطالبات اور اسٹاف ممبران  کے اسکریننگ ٹیسٹ کئے گئے اور 58 ڈونرز نے خون کے عطیات دئیے۔

دوسرے روز بیت الحکمہ آڈیٹورئیم ،ہمدرد یونیورسٹی میں پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن کے جوائنٹ سیکریٹری اور فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن ،ہمدر یونیورسٹی  کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حکیم شیراز محمد صدیقی صاحب نےخطبہ استقبالیہ پیش کیا۔بعد ازاں ماہرین نے اپنی آراء کا اظہار کیا۔

وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر عمران جاوید امین صاحب نے کہا کہ پاکستان میں چند این جی اووز ضرورہیں جن کی وجہ سے تھیلیسیمیا کے مریض  زندہ ہیں جن میں ایک سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ بھی ہے۔ وائس چانسلر نے پاکستان ایسوسی ایشن آف ایسٹرن میڈیسن کی چیئر پرسن اور فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن کی ڈاکٹر طبیبہ صائمہ غیاث کی تھیلیسیمیا پر ریسرچIROCHEL   کوقابل ستائش قرار دیا اور کہا کہ وہ جو کام سیلانی کے ساتھ کررہی ہیں اس کو وسعت دی جائے۔پروفیسر ڈاکٹر عمران جاویدامین صاحب نے مزید کہا کہ سیلانی ویلفیئر کے ساتھ مل کر آرٹیفیشنل انٹیلی جنس کے ذریعے ڈیٹا انسٹالیشن کا کام بھی جلد مکمل کیا جائے۔

 سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سیلانی ویلفیئر انٹر نیشنل ٹرسٹ کے تھیلیسیمیا پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام سرور نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 10 ہزار بچے مائنر تھیلیسیمیا کے پیدا ہوتے ہیں جب کہ ملک میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلیسیمیا کے مریض موجود ہیں۔ سندھ میں اس کا تناسب آ بادی کے لحاظ سے 5 سے 9  فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھیلیسیمیا کا مریض جب تک زندہ رہتا ہے، زندگی اور موت کی جنگ لڑ تا رہتا ہے۔جن ممالک میں شروع سے احتیاط کی گئی وہاں ایک بھی بچہ تھیلیسیمیا کا نہیں ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک ایران میں گزشتہ 18سالوں میں ایک بھی بچہ تھیلیسیمیا کا پیدا نہیں ہوا۔ سعودی عرب میں یہ تناسب 19سے کم ہوکر 3فیصد پر آگیا ہے۔ ڈاکٹر غلام سرورنے کہا کہ دوران زچگی چودہ ہفتہ کے اندر اندر تھیلیسیمیا کا(سی وی ایس) ٹیسٹ ہوتا ہے، میجر تھیلیسیمیا ہونے کی صورت میں حاملہ خاتون کا دس سے بارہ ہفتے کا حمل گرادینا شرعی اور قانونی طور پر جائز ہے۔اس مرض سے بچاؤ کے لئے علماء، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ملک کی 50ہزار سے زائد مساجد میں جمعہ کے خطبہ کے دوران آگاہی مہم چلائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2016 میں سندھ اسمبلی سے تھیلیسیمیا سے بچاؤ کا قانون پاس ہوچکا ہے لیکن اس میں ”والینٹری ٹیسٹ“ کرانے کالکھا گیاہے، جبکہ یہ ٹیسٹ مینڈیٹری یعنی ”لازمی“ہونا چائیے۔

ڈاکٹر صائمہ غیاث نے کہاکہ تھیلیسیمیا سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ نادرا سے جاری ہونے والے قومی شناختی کارڈ میں بلڈ گروپ کی طرح تھیلیسیمیا اسکریننگ/ ٹیسٹ کا کالم بھی ہونا چاہیے۔ اگر متعلقہ شخص مائنربھی ہو تو اسے شادی کے لئےاحتیاط لازم ہے۔اسی طرح نکاح نامہ میں بھی تھیلیسیمیااسکریننگ  اور ٹیسٹ منفی ہونے کا کالم درج ہونا چاہیے۔

اس موقع پرفیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن کے طلبہ نے تھیلیسیمیا کی آگاہی  کی مناسبت سے ایک ڈرامہ پیش کیا جس کو شرکاء نے بہت سراہا موضوع کی مناسبت سے طلبہ کے  بنائے ہوئے پوسٹرز کی نمائش بھی منعقد ہوئی۔ پروگرام کے اختتام پر فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر ارشد محمود صاحب نےکلمات تشکر ادا کئے اور تمام شرکا ء کاان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔

 آخر میں پائم کی سرپرست اعلی ،چانسلر ہمدرد یونیورسٹی ،صدر ہمدرد فاؤنڈیشن محترمہ سعدیہ راشد اور وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر عمران جاوید امین نے مہمانوں میں شیلڈز اور طلبہ و طالبات میں سرٹیفکیٹ تقسیم کئے۔

پروگرام کے دونوں دن ہمدرد لیبارٹریز (وقف) پاکستان کی جانب سے روح افزاءکا اسٹال لگایا گیا جہا ں پروگرام میں موجود تمام شرکاءاور طلبہ کو روح افزا پلایا گیااس پر طلبہ نے بڑی مسرت کا اظہار کیا۔