لاہور ( ) پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن (پائم) لاہور کے زیر اہتمام ہمدرد مرکز لاہور میں ”تذکرہ حکمت“ کی خصوصی نشست منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت حکیم پروفیسر ڈاکٹر عبدالحَنان نے کی، جبکہ ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی پاکستان ڈاکٹر عبدالرؤف نے بطورِ مہمان خصوصی شرکت کی۔ حکیم رانا عابد حسین نے ”طب یونانی اور جدید میڈیکل سائنس کا تقابلی جائزہ“ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ تقریب سے حکیم راحت نسیم سودروی، طبیب ندیم، حکیم سعید صابر، حکیم شہباز، انجینئر محمد آصف، ڈاکٹر ابجد چشتی، حکیم حسان شہباز اور سید علی بخاری نے بھی اظہارِ خیال کیا۔
سید علی بخاری نے ”گزشتہ روایات کو منتقل کرنے والے ڈاکٹر ذوالفقار انصاری کی طبی، علمی اور قومی خدمات“ پر خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے لیے بلندیِ درجات کی دعائیہ کلمات ادا کیے۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ طب یونانی فطری طریقِ علاج ہے، جس کی اساس نباتات اور فطرت کے اصولوں پر قائم ہے۔ اسلام دینِ فطرت ہے، اس لیے اسلام اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں۔ مزید کہا گیا کہ صحت و تندرستی کے حوالے سے اسلامی تعلیمات متعدد پہلوؤں سے انسان کی رہنمائی کرتی ہیں۔
مقررین نے کہا کہ اسلام نے صفائی، پاکیزگی، وضو اور روحانی و جسمانی صحت کے اصولوں کو اہمیت دی ہے۔ قرآنِ حکیم اور سیرتِ رسول ﷺ میں صحت و حفظانِ صحت کے حوالے سے واضح رہنمائی ملتی ہے۔ صبح جلد بیدار ہونا، رات کو بروقت سونا، مسواک اور صفائی کا اہتمام، اعتدال کے ساتھ غذا کا استعمال، بیماری سے احتیاط اور طبی اصولوں کی پابندی ایسے اصول ہیں جو انسان کو صحت مند زندگی گزارنے میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے، جبکہ وضو، ہاتھوں کی صفائی اور کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونے جیسی تعلیمات صحت عامہ کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں۔ اسی طرح تمباکو، شراب اور دیگر مضرِ صحت اشیاء سے اجتناب معاشرے کے لیے اہم رہنما اصول ہیں۔ مقررین نے عبادات کے روحانی فوائد کے ساتھ جسمانی فوائد کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ روزہ ضبطِ نفس اور اعتدالِ غذا کی تربیت دیتا ہے۔ تمام عبادات کے طبی فوائد کو دینی فرائض کے ساتھ حاصل کرنا چاہیے تاکہ انسان روحانی اور جسمانی طور پر صحت مند رہ سکے۔
اپنے کلمات میں حکیم راحت نسیم سودروی نے کہا کہ ”تذکرہ حکمت“ شہید حکیم محمد سعید کا قائم کردہ ایسا فورم ہے جس کے مسائلِ صحت کے حل، طب کے فروغ اور حکمت و ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کے درمیان فکری اتحاد و اتفاق کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا گیا ہے۔ تقریب میں حکیم حارث نسیم نے نظامت کے فرائض انجام دیے، جبکہ حکیم رانا عابد حسین کو اختتامی دعا کی تکمیل کرنے پر ہمدردی جانب سے وثیقہ پیش کیا گیا۔
مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ صحت مند اقوام ہی ترقی اور سربلندی حاصل کرتی ہیں۔ صحت ہر فرد کا بنیادی حق ہے اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے صحت عامہ، متوازن غذا، صفائی، احتیاط اور مؤثر علاج کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا ضروری ہے۔ تقریب میں اطباء، ڈاکٹروں، ماہرینِ صحت، حکما اور شعبۂ صحت سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔