تھیلیسیمیا ایک موروثی عارضہ ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔اس مرض میں مبتلا افراد کو زندہ رہنے کے لیے تقریباً ہر ماہ خون کی منتقلی کی ضرورت ہوتی ہے۔اگربروقت خون نہ ملےتو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ چوں کہ مریض کے جسم میں خون کی مقدار متوازن رکھنے کے لیے بار بار خون لگایا جاتا ہے، تو ردِّعمل میں جسم میں فولاد کی مقدار بڑھ جاتی ہے،جسےخارج کرنے کے لیے خاصی مہنگی دوا کا استعمال ناگزیر ہے۔ تاہم، طبِ یونانی نےاس مرض کے علاج کے لیے ایک اُمید کی کرن پیدا کی ہے،جس سے متعلق جاننے کے لیے آج ہمارے ساتھ ڈاکٹر طبیبہ صائمہ غیاث موجود ہیں، جنھوں نے قدرتی اجزا پر مشتمل ایک دوا Irochelتیار کی ہے، جو فولاد کی غیر ضروری زیادتی کو اعتدال پر لاتی ہے۔
ڈاکٹر طبیبہ صائمہ غیاث نےہمدرد یونی ورسٹی ،کراچی سے بیچلرز آف ایسٹرن میڈسن / Bachelor of Eastern Medicine کے بعد ایسٹرن میڈیسن میں پی ایچ ڈی کی۔ اس وقت فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن، ہمدرد یونی ورسٹی، کراچی میں بطور انچارج بیسک میڈیکل سائنس ڈویژن اپنے فرائض ادا کررہی ہیں۔اسسٹنٹ پروفیسرسمیت جامع ہمدرد کی مختلف کمیٹیز کی چیئرپرسن کے عُہدے پر بھی فائز ہیں۔وہ پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن کی تاحیات ممبر ہیں،جب کہ۲۰۲۴ء میں انھیں’ہمدرد یونی ورسٹی ریسرچر آف دی ائیر ایوارڈ‘ سے بھی نوازا گیا ہے۔
ڈاکٹر طبیبہ صائمہ غیاث سے ہونی والی گفتگو ملاحظہ فرمائیے۔
س:تھیلیسیمیا سے مرتے دَم تک نجات نہیں ملتی ہے، تو قارئین کے لیےاس مرض سے متعلق بتائیں؟
ج:تھیلیسیمیا بنیادی طور پرایک موروثی بیماری ہے، جو والدین سے بچّوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس مرض میں ہیموگلوبن کی مناسب مقدار نہیں بن پاتی ہے، جس کے نتیجے میں مریضوں کو بار بار خون لگوانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
س:یہ بیماری والدین سے بچّوں میں منتقل ہونے کی وجوہ کیا ہوسکتی ہیں اور بچّوں میں کب ظاہر ہوتی ہے؟
ج:دیکھیں یہ ایک جینیٹک ڈس آرڈر ہے۔ ایک صحت مند انسان کے ہیموگلوبن میں الفا اور بی ٹا گلوبن زنجیریں/Chains ہوتی ہیں۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک زنجیر متاثر ہو، تو مریض کیرئیر ہوتے ہیں، جو بظاہر نارمل زندگی گزرتے ہیں۔ یعنی یہ مریض جسمانی، ذہنی اور جنسی اعتبار سے طبعی زندگی گزارتے اور عام انسانوں کی طرح طبعی عُمر پاتے ہیں، مگر یہ مرض اپنے بچّوں میں منتقل کرسکتے ہیں۔عام طور پر والدین اس مرض کے کیرئیر ہوتے ہیں یا پھر دونوں میں سے کوئی ایک فریق تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہوتا ہے۔ اس طرح کے جوڑوں کے یہاں جنم لینے والے بچّے مائنر تھیلیسیمیا یا میجر تھیلیسیمیا کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اگر ماں باپ دونوں ہی مائنر تھیلیسیمیا میں مبتلا ہوں، تو زیادہ امکانات یہی پائے جاتے ہیں کہ بچّہ میجر تھیلیسیمیا سے متاثر ہوگا۔چوں کہ جسم میں ہیموگلوبن چین درست نہیں بن پاتی ہے، اس لیے بار بار خون لگوانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔عموماً پیدایش کے چھٹے مہینے سے لے کر دو سال کی عُمر تک علامات ظاہر ہوجاتی ہیں۔ان علامات میں جِلد کا زردی مائل ہونا ، تھکن اور عُمر کے مطابق نشوونما نہ ہوناشامل ہیں۔جب یہ علامات بچّے میں ظاہر ہوں، تو والدین کو چاہیے کہ فوری طور ماہرِ امراضِ اطفال یا قریبی کسی معالج سے بچّے کا معائنہ کروائیں۔
س: تھیلیسیمیا کی کتنی اقسام ہیں،ان میں فرق کیا ہے؟
ج: بنیادی طور پر تھیلیسیمیا کی دو اقسام ہیں۔ ایک الفا تھیلیسیمیا اور دوسری بی ٹا تھیلیسیمیا کہلاتی ہے۔پاکستان میں بی ٹا تھیلیسیمیا کی شرح بُلند ہے۔ بی ٹا تھیلیسیمیا کو نوعیت کے اعتبار سے تھیلیسیمیا مائنر، تھیلیسیمیا میجر اور تھیلیسیمیا انٹرمیڈیا میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تھیلیسیمیا مائنر کے مریض کیرئیر ہوتے ہیں۔ کیرئیر مریضوں میں ہیموگلوبن کی ایک چین متاثر ہوتی ہے۔ تھیلیسیمیا میجر میں ہیموگلوبن کی دونوں زنجیریں متاثر ہوتی ہیں۔نوعیت کے اعتبار سے یہ تھیلیسیمیا کی شدّت والی قسم ہے،جس میںعلامات بھی شدیدظاہر ہوتی ہیں ۔ تھیلیسیمیا انٹرمیڈیا درحقیقت مائنر اور میجر دونوں ہی کی درمیانی قسم ہے۔ اس قسم کی نوعیت مائنر سے کچھ زیادہ اور میجر سے کچھ کم ہے۔ تھیلیسیمیا انٹرمیڈیامیں خون لگوانےکی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن یہ امکان رد بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔
س:تھیلیسیمیا کی تشخیص کے لیے کون سے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں؟
ج: ایک ریگولر ٹیسٹ سی بی سی ہے، جو معالج کے مشورے سے فوری طور پر کروالینا چاہیے۔اس سے بھی تشخیص ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک ٹیسٹ ہیموگلوبن الیکٹوفورسیز ہے۔ اگر اس سے بھی حتمی تشخیص نہ ہو تو پھر ہم ڈی این اے ٹیسٹنگ کرتے ہیں۔عمومی طور پر ہیموگلوبن الیکٹوفورسیز کے ذریعے تشخیص ہوجاتی ہے۔
س: یہ مرض موروثی ہے، اس پر بھی روشنی ڈالیں؟
ج:دراصل خاندان میں کزنز میرج کے نتیجے میں ہیموگلوبن کی زنجیریں متاثر ہونے لگتی ہیں۔ وہ خاندان یا قبائلی علاقے، جہاں کزن میرج کا رواج ہو، وہاں پھر کچھ نسلوں کے بعد مختلف جینیٹک ڈس آرڈر سامنے آنا شروع ہوجاتے ہیں، جن میں سے ایک تھیلیسیمیا بھی ہے۔
س:اس مرض کے علاج سے متعلق بھی بتائیں؟
ج:یہ ایک جینیٹک ڈس آرڈر ہے، تو علاج کے ضمن میں جِین کلیکشن پر کچھ کام ہو رہا ہے، تو کئی تحقیقات بھی سامنے آرہی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ تھراپیز بھی مستعمل ہیں، لیکن پاکستان اور اس جیسے دیگر ترقّی پذیر مُمالک میں ابھی تک خون کی منتقلی/بلڈ ٹرانس فیوژن کا طریقۂ علاج رائج ہے۔ تھیلیسیمیا کے مریضوں کو تقریباً ایک ہفتے سے پندرہ دِن کے درمیان منتقلی خون کی ضرورت پیش آتی ہے۔ بار بار انتقالِ خون سے فولاد کی مقدار میں نقصان دہ حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔ مریضوں کے جسم سے فولاد کی زائد مقدار خارج کے لیے ایک مخصوص مہنگی دوا تجویز کی جاتی ہے، جس کا استعمال ناگزیر ہے۔ایک طریقۂ علاج بون میرو ٹرانس پلاٹیشن ہے، لیکن یہ ہر مریض کے لیے نہیں۔ جِین تھراپی بھی متعارف کروائی جا چُکی ہے۔اس کے علاوہ ایک اور دوا Thalidomide پر بھی ٹرائلز جاری ہیں۔
س:کیا غذاؤں کے ذریعے خون کی افزایش ممکن ہے؟
ج:جی بالکل، غذاؤں کے ذریعے خون کی کمی پوری کی جاسکتی ہے، لیکن تھیلیسیمیا کے علاج کے لیے ایسا ممکن نہیں ہے۔ دراصل، خون کی کمی کی کئی بیماریاں ہیں۔ ان میں ایک اینیمیا ہے، جس کی سب سے عام قسم اینیمیا آئرن ڈیفیشنسی/Anemia Iron Deficiency ہے۔ اس مرض میں کھانے کے لیے ایسی غذائیں تجویز کی جاتی ہیں، جن میں فولاد زائد مقدار میں پایا جاتا ہو، لیکن تھیلیسیمیا میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یعنی ہم فولاد دے کر خون کی مقدار نہیں بڑھا سکتے ہیں۔ چوں کہ ان مریضوں میں ہیموگلوبن کی زنجیر/چین درست نہیں بن رہی ہوتی ہے، اس لیے منتقلیٔ خون کی ضرورت پیش آتی ہے۔ چوں کے انتقالِ خون سے فولاد کی مقدار بڑھ جاتی ہے، تو ایسی صُورت میں ہم مریضوں کو وہ غذائیں تجویز کرتے ہیں، جن میں فولاد نہ ہو۔دیکھیں،آئرن ایک ضروری عنصر ہے، جو تمام غذاؤں میں پایا جاتاہے۔ہم کوشش کرتے ہیں کہ ایسی غذائیں تجویز کی جائیں، جن میں آئرن کم سے کم ہو۔سبزیوں میں توری، لوکی، بند گوبھی، پھول گوبھی وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں، گوشت نہیں کھا سکتے،البتہ بعض مریض کم مقدار میں استعمال کرسکتے ہیں۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ سیب میں فولاد زائد مقدار میں پایا جاتا ہے، تو اس پھل میں اس قدر زائد مقدار میں فولاد نہیں کہ تھیلیسیمیا کے مریض سیب نہ کھاسکیں۔ یہ مریض سیب اور امرود بھی کھا سکتے ہیں،البتہ انار، انگور اور کھجورکھانا منع ہیں۔
س:بار بار خون لگانے سے کون سی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں؟
ج: پاکستان میں بہت تاخیر سے محفوظ خون کی اہمیت اُجاگر ہوئی ہے۔مریضوں کوجو خون منتقل کیا جارہا ہوتا ہے، وہ عموماً متاثر ہوتا ہے۔ایک تو پہلے ہی بار بار خون کی منتقلی کی وجہ سے جسم میں فولاد کی مقدار بڑھ رہی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگر خون بھی محفوظ نہ ہو تو ایڈز، ہیپاٹائٹس اور آتشک/Syphilisوغیرہ لاحق ہونے کے خطرات پائے جاتے ہیں۔ ہمارے کلینک میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ ایسے مریض آتے ہیں، جو ہیپاٹائٹس سی یا پھر دیگر پیچیدگیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ تھیلیسیمیا ایک سنڈروم ہے، جو کئی پیچیدہ امراض کا مجموعہ ہے۔ اگر تھیلیسیمیا کا مریض دیگر امراض کا بھی شکار ہوجائے،تو اس کے لیے اپنی بیماری، دیگر امراض اور ان کی مختلف پیچیدگیوں کے ساتھ زندگی گزارنا خاصا مشکل امر بن جاتا ہے۔
س:آئرن اوورلوڈ کیا ہےاور اس سے کون سے اعضاء متاثر ہوتے ہیں؟
ج: دیکھیں،ہمارے جسم کا باورچی خانہ جگر ہے، جہاں میٹابولزم کا پورا عمل انجام پاتا ہے،اس لیے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ یہی عضو متاثر ہوتا ہے۔جب جگر متاثر ہوجائے، تو اس کے اثرات میٹابولزم پر مرتّب ہوتے ہیں،جس کے نتیجے میں پورا جسم فولادبڑھنےکے مضر اثرات کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔پھرفولاد مختلف گلینڈزجیسےپچوٹری / Pituitary ، تھائی رائیڈ وغیرہ میں جمع ہونے لگتا ہے،حتیٰ کہ دِل بھی فولاد کے ڈھیرسے محفوظ نہیں رہتا ہے۔
س:آپ نے تھیلیسیمیا کے علاج حوالے سے تحقیق کی ہے، تو ہمیں اس حوالے سے تفصیلاً بتائیں؟
ج:طبِ یونانی میں مُخرجِ فولادکے لیے باقاعدہ طور پر کوئی دوا وغیرہ نہیں تھی،اس لیے پی ایچ ڈی کے لیے اس مرض کا انتخاب کیا ،تاکہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے کوئی ایسی دوا متعارف کروائی جائے،جو جسم سے فولاد کی زائد مقدار خارج کرسکے۔ الحمدللہ! قدرتی اجزا پر مشتمل ایک نباتاتی دوا Irochelتیار کی۔ فیکلٹی آف ایسٹرن میڈسن میں اس دوا پرتحقیق کی گئی۔ پری کلینکل اورکلینکل اسٹڈیز کی گئیں، جن کے بہت اچھے نتائج ملے۔یہاںمَیں ایک بات کہنا چاہوں گی کہ ہمدرد یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر، سابق ڈین فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن اور موجودہ ڈائریکٹر کلینکل سائنس ڈویژن ہمدرد لیبارٹریز (وقف)پاکستان،پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان کے سامنے جب مَیں نے اپنی تحقیق رکھی، تو انھوں نے کہا:’کوشش کیجیے کہ زیادہ تر اجزا غذائی ہوں۔ دوا کتنی بھی محفوظ ہو، اس کا تاعُمر یا طویل عرصے استعمال مضرصحت کا باعث ہوتا ہے۔ ہم تاعُمر غذا کھاتے ہیں، کوئی ضرر رساں اثرات ظاہر نہیں ہوتے۔ کبھی غذا میں تھوڑی بہت بداحتیاطی بھی کرلیتے ہیں، مگرہماری طبیعت مُدبّرۂ بَدن اسے جَلد اعتدال پر لے آتی ہے۔عموماً کسی دوا کے استعمال کے بغیر ہی۔یہ وضاحت ضروری ہے کہ مارکیٹس میں مُخرجِ فولاد کے لیے جو ادویہ دست یاب ہیں، ان کے ضمنی اثرات بھی ہیں۔ ذرا خود سوچیے، ایک جانب تھیلیسیمیا کے مریضوں کو منتقلی خون کی بار بار ضرورت پیش آتی ہے، اس دوران اگر انھیں اپنے مرض سمیت منتقلی خون کی پیچیدگیوں اور مُخرجِ فولاد کی ادویہ کے ضمنی اثرات کا بھی سامنا کرنا پڑے، تو ان سب کے اثرات زندگی کے معیار پر مرتّب ہوتے ہیں۔ اس لیے مُخرجِ فولاد کے لیے قدرتی اجزا پر مشتمل ایک ایسی نباتاتی دوا متعارف کروائی گئی، جو نہ صرف تھیلیسیمیا کے مریضوں میں خون کی منتقلی کی بنا پر ہونے والی فولاد کی غیرضروری زیادتی کو اعتدال پر لاتی ہے، بلکہ ہیموگلوبن کی سطح بھی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ تھیلیسیمیا کے متعدّد مریض یہ دوا استعمال کررہےاور الحمدللہ ان مریضوں میں کسی بھی قسم کے دوا کے کوئی ضمنی اثرات ظاہر نہیں ہوئے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مُخرجِ فولاد کی یہ نباتاتی دوا مضر اثرات سے پاک ہے۔بلاشبہ،مُخرجِ فولاد کی نباتاتی دوا،مریضوں کے لیے اُمید کی کرن ہے۔
س: یہ دوا عام مارکیٹ میں دست یاب ہے؟
ج:نہیں، فی الحال تو یہ دوا عام مارکیٹس میں دست یاب نہیں، لیکن اس دوا کے مثبت نتائج دیکھتے ہوئے ہمدرد لیباٹریز(وقف) پاکستان نےدوا کا لاسٹ بیج ٹرائل/ Last Batch Trial کیا ہے، جس کے کام یاب نتائج بھی حاصل ہوچُکے ہیں۔ ان شاء اللہ یہ دواجلد ہی عام مارکیٹ میں بھی دست یاب ہوگی۔
س:تھیلیسیمیا سے بچاؤ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں؟
ج:تھیلیسیمیا کا مرض مکمل طور پر قابلِ علاج نہیں ہے، مگر ہم حکمتِ عملی سے اس مرض کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ دُنیا میں کئی مُمالک ایسے ہیں، جنھوں نے اس مرض سے چھٹکارا حاصل کرلیا ہے۔جیسے قبرص، ایران میں ۲۰۱۵ یا ۲۰۱۶ء کے بعد سے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔پاکستان میں بھی ایسی کمیونٹیز ہیں، جنھوں نے اپنی کمیونیٹز سے اس مرض کا قَلع قَمع کردیا ہے۔پورے معاشرے سے اس مرض کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ آگہی اُجاگر کرنا ہے۔اس کے ساتھ ہی شادی سے قبل تھیلیسیمیا کی جانچ کا ٹیسٹ بھی لازمی کروایا جائے۔ پاکستان میں ۲۰۱۵ء میں شادی سے قبل تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ کروانے کا قانون پاس ہوچُکا ہے،لیکن افسوس کہ اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے۔حالاں کہ اس قانون کا اطلاق کر کے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض کی اذیت سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔تاہم، یہ امر خوش آئند ہے کہ ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان ۲۰۲۴ء سے اپنے تدریسی اداروں میں طلبہ کی تھیلیسیمیا اسکریننگ کررہا ہے،تاکہ اپنی آنے والی نسلوں کو تھیلیسیمیا سے بچایاسکے۔
س:کیا اس اسکریننگ کے ذریعے تھیلیسیمیا سے متاثر طلبہ سامنے آئے ہیں؟
ج:جی بالکل! چند طلبہ میں تھیلیسیمیا مائنر تشخیص ہوا ہے۔ہم نے ان طلبہ کی باقاعدہ کاؤنسلنگ کی ہے، تاکہ وہ رشتۂ ازدواج میں بندھنے سے پہلے اپنے ہونے والے ساتھی کا بھی تھیلیسیمیا ٹیسٹ کروائیں۔ اگر دونوں ہی فریق تھیلیسیمیا مائنر کا شکار ہوں، تو پھر بہتر یہی ہے کہ وہ آپس میں شادی نہ کریں۔
س: جب ہم پولیو کے حوالے سے دیکھتے ہیں، تو پاکستان سمیت ایک دو مُمالک ایسے ہیں، جو ’پولیو فری‘ نہیں ، ایسے ہی تھیلیسیمیا کا مرض بھی ہے، جس کی بڑھتی ہوئی شرح محض شادی سے قبل ایک ٹیسٹ کروا کر کم کرسکتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے، تو وہ کیا رکاوٹیں ہیں، جو مرض کے خاتمے میں آڑے آجاتی ہیں؟
ج: مَیں سمجھتی ہوں کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے، پھر صحت کی بنیادی سہولتیں جس طرح میسّر ہیں، وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ایسے کئی عوامل ہیں، جو پولیو، تھیلیسیمیا اور اس طرح کے دیگر امراض کو مکمل طور پر ختم کرنے میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مُلک بَھر، خصوصاً قبائلی علاقوں میں آگاہی مہمات کا آغاز کیا جائے۔
س:کیا تھیلیسیمیا کے مریض عام افراد کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں،نیز ان کی زندگی کے دورانیے سے متعلق بھی بتائیں؟
ج:اگر تھیلیسیمیا کے مریضوں کو باقاعدگی سے خون لگوایا جائے، مُخرجِ فولاد کے ساتھ دیگر پیچیدگیوں پر بھی کنٹرول ہو، تو مریض نارمل زندگی گزارتے ہیں۔ ہم ان مریضوں کو جتنا زیادہ پیچیدگیوں سے بچائیں گے، اس قدر ہی ان کی زندگی کا دورانیہ بھی بڑھے گا۔ تھیلیسیمیا کے شکار بچّے تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں، کھیل کود میں بھی حصّہ لیتے ہیں، البتہ ہم ان بچّوں کو بہت زیادہ جسمانی سرگرمیاں انجام دینے سے منع کرتے ہیں، کیوں کہ اس سے ان کے ہیموگلوبین کی سطح کم ہونے، تھکان بڑھنے اور دیگر مسائل جنم لینے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ پھر بعض ایسی مُخرجِ فولاد ادویہ بھی ہیں، جو ان کے جسم سے منرلز کا اخراج کررہی ہوتی ہیں،جن کےمضر اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ تو ہم ان ہی وجوہ کی بنا پر تھیلیسیمیا سے متاثر بچّوں کو تھکا دینے والی سرگرمیوں سے دُور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔رہی بات ان کی زندگی کے دورانیے کی، تو وہ کم ہوتا ہے۔ پاکستان میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کی اوسط عُمر ۲۱ برس ہے، لیکن بعض مریض ۴۰ سال کی بھی عُمر پاتے ہیں۔
س:بطور طبیبہ آپ نے اپنے کیرئیر میں تھیلیسیمیا کے کسی ایسے مریض کا علاج کیا، جو شدید پیچیدگوں کا شکار ہو اور وہ جی اُٹھا ہو؟
ج: عام طور پر تھیلیسیمیا کے مریضوں میں جگر اور تلی کے حجم میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے پاس ایسے بہت مریض آتے ہیں، جو کئی پیچیدگیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ تاہم، ہربل میڈسن کے استعمال سے ان کی پیچیدگیاں کم ہوجاتی ہیں۔ طبِ یونانی میں ایسی ادویہ موجودہیں، جو جگر سے متعلقہ مسائل کے علاج میں خاصی مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ ہمارے پاس دوچار مریض ایسے آئے، جنھیں سرجری تجویز کی گئی تھی، الحمدللہ! نباتاتی ادویہ کے استعمال سے ان کے جگر اور تلی کا بڑھا ہوا حجم نارمل ہوگیا۔ تقریباً چھے سے آٹھ مہینے کے علاج سے ۲۰ یا ۲۳ سینٹی میٹر تک بڑھی ہوئی تلی نارمل ہوجاتی ہے۔
س:تھیلیسیمیا کے مریض منتقلیٔ خون کی وجہ سے ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہوجاتے ہیں، تو کیا طبِ یونانی میں ہیپاٹائٹس سی کا کام یاب علاج موجود ہے؟
ج:جی بالکل طبِ یونانی میں ہیپاٹائٹس سی کا بہت مؤثر علاج موجود ہے۔ مطب میں ہیپاٹائٹس سی کے شکار کئی مریض آتے ہیں، جن کا یونانی ادویہ سے کام یاب علاج کیا جاتا ہے۔ فکلیٹی آف ایسٹرن میڈسن میں امراضِ جگر کے حوالے سے ہمارے اطبا نےخاصی تحقیق کی ہے۔
س:ہمدرد صحت کے ناظرین اور قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
ج:پیغام یہی ہے کہ صرف شادی کے خواہش مند ہی نہیں، بلکہ صاحبِ اولاد بھی تھیلیسیمیا کی اسکریننگ کروائیں۔ دراصل، اگرمیاں بیوی دونوں ہی تھیلیسیمیا مائنر کا شکار ہوں، تو صحت مند بچّے کی پیدایش کے امکانات ۲۵فی صد ہوں گے، جب کہ۵۰ فی صد تھیلیسیمیا مائنر اور ۲۵ فی صد تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہوں گے۔ اس صُورت میں جو بچّے تولد ہوچُکے ہیں، ان کا تو علاج ہوگا ہی، لیکن خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعے تھیلیسیمیا کو بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے۔تھیلیسیمیا کو خاندانوں میں بڑھنے سے روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ آگہی اُجاگر کی جائے۔٭