پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن کی سائنٹیفک کمیٹی نے ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے اشتراک سے 30 جولائی 2026 کو عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر “تذکارِ حکمت” کے عنوان سے ایک خصوصی سائنسی سیمینار منعقد کیا۔ اس پروگرام کا مقصد ہیپاٹائٹس جیسے خاموش مگر مہلک مرض کے بارے میں عوامی آگاہی کو فروغ دینا، بروقت تشخیص، مؤثر احتیاطی تدابیر، اور طبِ مشرق و جدید طب کے اشتراک سے اس بیماری کی روک تھام کے امکانات پر روشنی ڈالنا تھا۔ سیمینار ہمدرد یونیورسٹی ہسپتال، نعمت بیگم بلاک، ناظم آباد کراچی میں منعقد ہوا۔
اس سیمینار میں ہمدرد فاؤنڈیشن کی صدر سعدیہ راشد صاحبہ نے خصوصی شرکت فرمائی، اسکے علاوہ پائم کے صدر پروفیسر ڈاکڑ حکیم عبدالحنان ،ہمدرد یونورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمران جاوید امین، ہمدرد یونورسٹی ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر ریاض الحق، ہمدرد یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن کے ڈین پرفیسر ڈاکٹر ارشد محمود صاحب ،جناح وومن یونیورسٹی کی طالبات ، ہمدر یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ایسٹرن کے طلبہ کے علاوہ معزز حکماء حضرات نے شرکت فرمائی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد سائنٹیفک کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر طبیبہ صائمہ غیاث نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کی اہمیت، سیمینار کے اغراض و مقاصد اور صحت عامہ میں آگاہی کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر مہمانِ مقرر ڈاکٹر حکیم سید ظہور الحسن زیدی، ایسوسی ایٹ پروفیسر، فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن، ہمدرد یونیورسٹی نے “ہیپاٹائٹس: بچاؤ، بروقت تشخیص اور مربوط علاج—جدید اور یونانی طب کا کردار” کے موضوع پر جامع علمی لیکچر پیش کیا۔ انہوں نے ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام، اسباب، علامات، تشخیص اور علاج کے جدید اصولوں کے ساتھ ساتھ اس بیماری سے بچاؤ کے لیے ویکسی نیشن، محفوظ طبی طریقۂ کار، صاف پانی، مؤثر اسکریننگ اور عوامی آگاہی کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ عالمی ادارۂ صحت کے 2030 تک ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے ہدف کے حصول کے لیے مربوط قومی حکمتِ عملی اور مسلسل آگاہی ناگزیر ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے یونانی طب میں جگر کے تحفظ (Hepatoprotective) سے متعلق ہونے والی تحقیقی سرگرمیوں کا بھی تذکرہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مضبوط سائنسی شواہد، معیاری کلینیکل تحقیق اور Evidence-Based Medicine کے اصولوں کے مطابق مزید تحقیق کے ذریعے یونانی ادویات کی افادیت کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تربیت یافتہ یونانی معالجین بنیادی صحت کی سہولیات خصوصاً دیہی علاقوں میں جگر کی بیماریوں کی روک تھام، ابتدائی تشخیص اور عوامی آگاہی میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
لیکچر کے بعد ماہرین کے مابین پینل ڈسکشن منعقد ہوئی، جس میں شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے گئے اور ہیپاٹائٹس کی روک تھام، صحت عامہ کی بہتری اور مربوط طبی نظام کے فروغ کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ایسوسی ایشن کا بنیادی مشن صرف علاج تک محدود نہیں بلکہ احتیاط، تحقیق، تعلیم اور صحت سے متعلق عوامی شعور کو فروغ دینا بھی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن اور ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان مستقبل میں بھی صحت عامہ سے متعلق ایسے سائنسی، تحقیقی اور آگاہی پروگراموں کا انعقاد جاری رکھیں گے تاکہ بیماریوں کی بروقت روک تھام اور صحت مند معاشرے کے قیام میں اپنا مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
تقریب کی مہمانِ خصوصی محترمہ سعدیہ راشد (صدر، ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان) نے مقررین اور منتظمین کی خدمات کو سراہا۔ پروگرام کے اختتام پر مہمانِ مقرر اور دیگر معزز شخصیات میں یادگاری شیلڈز اور سووینئرز تقسیم کیے گئے، جبکہ جنرل سیکریٹری حکیم مصطفیٰ بیگ نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔ بعد ازاں دعا، گروپ فوٹو اور ہائی ٹی کے ساتھ سیمینار اختتام پذیر ہوا۔
یہ سیمینار طبِ مشرق اور جدید طبی علوم کے ماہرین، اساتذہ، معالجین، محققین اور طلبہ و طالبات کی بھرپور شرکت کے باعث نہایت کامیاب رہا۔ اس پروگرام نے ہیپاٹائٹس سے متعلق سائنسی شعور، بروقت تشخیص، احتیاطی تدابیر اور عوامی آگاہی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور قومی سطح پر صحت عامہ کے حوالے سے پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن کے مؤثر کردار کو مزید اجاگر کیا۔
حاصل شدہ نتائج (Outcomes)
عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر شرکاء میں ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام، اسباب، بروقت تشخیص، علاج اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے مؤثر آگاہی پیدا ہوئی۔پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن (PAEM) اور ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے باہمی تعاون کو مزید تقویت ملی، جو مستقبل میں عوامی صحت سے متعلق سائنسی و آگاہی پروگراموں کے انعقاد میں معاون ثابت ہوگا۔